
حویلیاں ( قادر بخش سے) ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ نے چھری کے وار کے مقدمہ میں ملزم کی ضمانت مسترد کر دی اپریل 2025 کو پولیس اسٹیشن پی او ایف کینٹ حویلیاں میں ایف آئی آر نمبر 271 درج کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ تورّو دھوک کے علاقے میں ہونے والے جھگڑے کے دوران شاہد علی خان پر چھری کے وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس مقدمہ کی سماعت معزز ہائی کورٹ میں ہوئی، جہاں ملزم اعظم خان کی جانب سے درخواستِ ضمانت دائر کی گئی۔ عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود ابتدائی شواہد، وقوعہ کی نوعیت اور میڈیکل شواہد کے پیشِ نظر یہ معاملہ مزید انکوائری کا نہیں بلکہ بادی النظر میں سنگین نوعیت کا ہے، لہٰذا اس مرحلے پر ضمانت دینے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ چنانچہ عدالت نے ملزم کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔مدعی کی جانب سے معروف قانون دان وکیل عقیل الرحمان جدون پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف عینی شہادت اور طبی ریکارڈ دستیاب ہے، اور اگر اس مرحلے پر ضمانت دی گئی تو انصاف کے تقاضے متاثر ہوں گے۔ عدالت نے مدعی کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے درخواستِ ضمانت مسترد کرنے کا حکم جاری کیا۔عدالتی فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس امر کو سراہا جا رہا ہے کہ سنگین جرائم کے مقدمات میں شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق سخت مؤقف اپنایا جا رہا ہے، تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
