
ایبٹ آباد ( ڈیسک نیوز )ریلیاں یا عوامی جانیں؟ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے مرکز کے سامنے ہزارہ کا مقدمہ لڑنے کا مطالبہوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کل ہزارہ ڈویژن کے دورے پر ہیں اور ہری پور سے بذریعہ جی ٹی روڈ شاہراہِ قراقرم مانسہرہ تک اسٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت کریں گے، تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہزارہ کو ریلیوں نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ایوب پل حویلیاں، جو 1970 کی دہائی میں تعمیر ہوا تھا، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دو مرتبہ سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی جو کہ وفاقی حکومت کا ادارہ ہے، نے مستقل حل فراہم کرنے کے بجائے محض عارضی پلرز لگا کر وقتی بندوبست کیا، جو چند ماہ میں ہی ناکام ثابت ہوا۔ بعد ازاں پل کو ٹریفک کے لیے مکمل بند کرتے ہوئے دونوں اطراف سیمنٹ کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں، جن کے باعث اب تک تین سے چار قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، مگر ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔وفاقی حکومت نے سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی اور سابق ایم پی اے سردار اورنگزیب نلوٹھہ کی کاوشوں سے ایوب پل کی ازسرِنو تعمیر کے لیے 82 کروڑ روپے سے زائد کی رقم منظور کی، جبکہ ماہ اکتوبر 2025 میں اس منصوبے کا ٹینڈر بھی شائع ہو چکا ہے، مگر تاحال بولی کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔ عوام این ایچ اے حکام کی مسلسل تاخیری حربوں اور طفل تسلیوں کو کھلا مذاق قرار دے رہے ہیں۔ایوب پل کی بندش کے بعد متبادل کے طور پر استعمال ہونے والا لنگرہ پل بھی ہیوی ٹریفک کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہو چکا ہے اور تیزی سے خستہ حالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ خدانخواستہ اگر لنگرہ پل بھی ناکارہ ہو گیا تو ہزارہ ڈویژن کا دیگر اضلاع سے زمینی رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا، جس کے اثرات صرف ٹریفک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تجارت، تعلیم، صحت اور ایمرجنسی سروسز بری طرح متاثر ہوں گی۔عوام کا کہنا ہے کہ اگرچہ این ایچ اے وفاقی ادارہ ہے، مگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے اس سنگین مسئلے پر ریلیوں کی قیادت کرنے کے بجائے مرکز کے سامنے ہزارہ کے عوام کا مقدمہ پوری قوت سے لڑنے کے پابند ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ کا فرض بنتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور این ایچ اے پر دباؤ ڈالیں، فنڈز کے باوجود تعطل کا شکار منصوبے کو فوری طور پر شروع کروائیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو سیاسی سرگرمیوں پر ترجیح دیں۔ہزارہ کی ممتاز سیاسی شخصیت بابا حیدر زمان مرحوم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ہری پور سے یوسف ایوب خان ان کا دست و بازو بن جائیں تو وہ ہزارہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ بابا حیدر زمان مرحوم تو اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر بابائے بلدیات یوسف ایوب خان آج بھی زندہ ہیں اور صوبے و مرکز میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایوب خان مرحوم کے نام کی لاج رکھتے ہوئے اس سنگین عوامی مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں، جبکہ خان برادران سے بھی عملی اقدام کی توقع کی جا رہی ہے۔عوامی حلقوں نے اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ریلیوں کے انعقاد پر پوسٹرز، بینرز اور تشہیری سرگرمیوں پر جو خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے، اگر اس کا عشرِ عشیر بھی ایوب پل اور ایک اضافی متبادل پل کی تعمیر پر لگایا جائے تو عوام کو مستقل ریلیف مل سکتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، ترجیحات کی کمی ہے، اور جب تک انسانی جانوں کو سیاسی نمائش سے مقدم نہیں سمجھا جائے گا، ایسے المیے جنم لیتے رہیں گے۔
