
ہری پور ( ڈیسک نیوز )ہیومن رائٹس پروٹیکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کونسل ایچ آر پی ڈی سی ضلع ہری پور کی صدر فرحانہ عامر خان کوارڈینٹر ضلع ہری پور رضوانہ بی بی نے موجودہ صورت حال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ائے روز خواتین پر گھریلو تشدد اور اداروں کی طرف سے شنوائی نہ ہونا لمہہ فکریہ ہے خواتین کے جو حقوق شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کئے ہیں ان سے روگردانی کمزور بیڈ گورنس کی نشانی ہے ائے روز عورتوں کیساتھ ناروا سلوک ہماری سوسائٹی کا معمول بن چکا جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے دوسری طرف ضلع ہری پور اور ضلع ابیٹ آباد میں بھتہ خوری عروج پر پہنچ چکی ریاست کے اندر ایک کریمنل گروہ اپنی ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے کروڑوں کے حساب سے ان دو اضلاع میں بھتے وصول کئے جارہے ہیں ایسے گروہ ملک اور قوم کے دشمن ہیں ریاست کو چاہیۓ کہ ان قلع قمہ کریں تاکہ لوگ سکون سے اپنی زندگی بسر کرسکیں خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی اپنے صوبے کے اندر گڈ گورنس قائم کرنے کی کوشش کریں ہر ضلع میں سائلین اور فریادیوں کو اپنے مسائل حکام بالا تک پہنچانے کی رسائی حاصل ہو تاکہ ان کے مسائل حل ہوں جو ا نتظامی عہدوں پر فائز ضلعی حکام بالا کو چاہیے کہ وہ اپنے دفتر سائلین کے لئے کھلے رکھیں بلا روک ٹوک انہیں ضلعی انتظامی افسران سے ملنے کی اجازت ہو چند من پسند افراد کے ساتھ میٹنگ کرنے سے سائلین کو انصاف کی فراہمی بہت مشکل ہے پولیس سٹیشن جاتے ہوئے لوگ خوف زدہ نہ ہوں اور نہ کسی وڈیرے کی رسائی سے ان کی بات سنی جائے ہر شہری چاہیے وہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو اسکی شنوائی ہونی چاہیے ان اداروں میں لین دین یعنی رشوت خوری حکام بالا اپنے ماتحت عملے کی حوصلہ شکنی کریں اور خود بھی اس پر عمل کریں تا کہ کل اللہ کی عدالت میں سرخرو ہوسکیں اخرت میں کامیاب وہی لوگ ہونگے جو عدل کرینگے اپنے منصب پر بیٹھ کر مکمل انصاف کی فراہمی عام آدمی تک پہنچائیں گے اللہ کے ہاں وہی اعلی مرتبے پر فائز ہونگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اج ہیومن رائٹس پروٹیکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کونسل ایچ آر پی ڈی سی پاکستان ضلع ہری پور کے ایک تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا میڈم فرحانہ عامر خان اور رضوانہ بی بی نے مزید کہا کہ سماجی تنظیم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ہیومن رائٹس پروٹیکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کونسل ایچ آر پی ڈی سی پاکستان مظلوموں کی داد رسی کرتا رہے گا ہر محاذ پر اپنی آواز بلند کرینگے مظلوم کی آواز انسانی حقوق اداروں تک پہنچائیں گے اگر مقامی سطح پر ہمارے اواز کو نہ سنا گیا تو اسلیۓ ادارہ پورے ہزارہ ڈویژن میں اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے اور ادا روں کے ستائے ہوئے لوگوں کی قانونی معاونت اور ڈومسٹیک وائلنس پہ بڑی تیزی سے کام کر رہا ہے جوھماداروں کے متعلق کہہ رہے ہیں یہ حقیقت پہ مبنی ہے ایک دن آزمائشی بنیادوں پر کسی بھی ضلع کا کوئ افسر اپنا بیس بدل کر سائل بن کر کسی دفتر میں چلا جائے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس ملک میں کتنا بڑا انصاف ہے یا ظلم کی انتہا
