
بقلم: حبا سہیل موضوع: ایبٹ آباد میں شہری فضائی آلودگی اور عوامی صحت پر اس کے اثراتایبٹ آباد کو ہمیشہ اس کی ہریالی، ٹھنڈے موسم اور صاف ستھری فضا کی وجہ سے پہچانا جاتا رہا ہے۔ مگر بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں میں یہاں کی فضا میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ میں، حبا سہیل، ایک انڈرگریجویٹ طالبہ کے طور پر روزمرہ زندگی میں اس مسئلے کو شدت سے محسوس کرتی ہوں۔ صبح کے اوقات میں سکول جاتے ہوئے سڑکوں پر گاڑیوں کے دھوئیں کی بو، بازاروں میں اڑتی گرد و غبار، اور شام کے وقت فضا میں چھائی ہلکی دھند اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایبٹ آباد اب فضائی آلودگی کے خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔اس آلودگی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ شہر میں ٹریفک کا بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، خاص طور پر پرانی گاڑیاں زہریلا دھواں خارج کر کے ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران پیدا ہونے والا ملبہ اور گرد و غبار فضا میں شامل ہو جاتا ہے، جبکہ چھوٹی صنعتیں اور ورکشاپس بھی نقصان دہ ذرات ہوا میں چھوڑ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درختوں کی کمی اور شجرکاری میں کمی نے فطری طور پر ہوا کو صاف رکھنے کے عمل کو مزید کمزور کر دیا ہے۔فضائی آلودگی کے سب سے سنگین اثرات انسانی صحت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں سانس اور دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بچے اور بزرگ خاص طور پر اس آلودہ ماحول سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ دمہ، کھانسی، سانس لینے میں دشواری، آنکھوں کی جلن اور دل کے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے خود اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھا ہے جو معمولی جسمانی سرگرمی کے دوران بھی سانس کی تکلیف محسوس کرتے ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔اگرچہ حکومت نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف قوانین اور شجرکاری مہمات کا آغاز کیا ہے، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ دوسری جانب شہریوں کی بے احتیاطی بھی مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ کچرے کا غلط استعمال، گاڑیوں کی غیر ضروری ڈرائیونگ، اور ماحولیاتی اصولوں کو نظرانداز کرنا فضا کو مزید آلودہ کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ آلودگی سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کروائیں اور گاڑیوں و صنعتوں کے اخراج پر کڑی نگرانی رکھیں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ کم سے کم گاڑیوں کا استعمال کریں، کچرا مقررہ جگہوں پر ڈالیں اور درخت لگانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تعلیمی ادارے اور طلبہ شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ نوجوان نسل ماحول کے تحفظ کے لیے آگے بڑھے۔میں، حبا سہیل، دل سے یہ خواہش رکھتی ہوں کہ ایبٹ آباد کے لوگ، خاص طور پر بچے اور بزرگ، دوبارہ صاف اور صحت مند فضا میں سانس لے سکیں۔ اگر ہم نے آج ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو ہم نہ صرف اپنے شہر کی خوبصورتی کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند ماحول بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ قدرتی حسن صرف کتابوں اور کہانیوں تک محدود رہ جائے گا۔
